لندن: برطانیہ کی حکومت نے کارکنوں کے لیے لازمی ڈیجیٹل شناختی کارڈ (Digital ID) کے نفاذ کے اپنے منصوبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، جسے ایک بڑے سیاسی اور عوامی دباؤ کے بعد واپس لیا گیا۔ اس فیصلے کو حکومت کی حالیہ پالیسی میں یو-ٹرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پچھلے سال یہ منصوبہ ملازمین کے لیے شناخت کی تصدیق، سکیورٹی اور قانونی فریم ورک مضبوط کرنے کے مقصد سے پیش کیا گیا تھا۔
منصوبے کی تفصیل اور مقصد
لازمی ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے منصوبے کے تحت تمام کارکنوں کو ایک سرکاری یا تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ حاصل کرنا ہوتا، جس کے ذریعے وہ ملازمت کے لیے تصدیق شدہ ہوتے، اور یہ کارڈ ملازمت، سکیورٹی اور سرکاری فوائد تک رسائی کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کام کی جگہ پر شناخت کی درستگی، ٹیکس فراہمی میں شفافیت اور قانونی ریگولیشن کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
یو-ٹرن اور اس کے اسباب
-
کارکنوں اور یونینز کی مخالفت: ملازمین اور مزدور یونینز نے اسے پرائیویسی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی۔
-
پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے خدشات: ڈیجیٹل شناختی کارڈ میں ذاتی معلومات کے غلط استعمال یا ہیکنگ کے امکانات کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی گئی۔
-
تکنیکی اور عملی چیلنجز: پورے ملک میں ہر کارکن کے لیے کارڈ فراہم کرنا اور اس کے نظام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
حکومت کا مؤقف
حکومت نے کہا کہ اس فیصلے کے باوجود وہ ملازمت کی شناخت، سکیورٹی اور قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے دیگر طریقے تلاش کرے گی۔ وزیر محنت نے بیان میں کہا کہ عوام کی رائے اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے، اور مستقبل میں زیادہ شفاف اور رضاکارانہ طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
عوام اور تجزیہ کاروں کا ردعمل
ماہرین اور مزدور رہنما خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت نے عوامی رائے کا احترام کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ یو-ٹرن برطانیہ میں حکومت کی پالیسی بنانے کے عمل میں عوامی اور یونینز کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ عوام نے بھی اسے پرائیویسی کے تحفظ کی کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے نفاذ سے ذاتی ڈیٹا کی ممکنہ غلط استعمال کے خدشات تھے۔
ممکنہ مستقبل کے اقدامات
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت اب رضاکارانہ ڈیجیٹل شناختی سہولت، آن لائن ٹولز اور محفوظ ڈیٹا شیئرنگ کے نظام پر غور کر رہی ہے، تاکہ ملازمت کی تصدیق اور قانونی کارروائی میں آسانی پیدا کی جا سکے، بغیر اس کے کہ کسی کارکن کی پرائیویسی پر سمجھوتہ ہو۔
یہ یو-ٹرن برطانیہ میں پرائیویسی، سکیورٹی اور عوامی شمولیت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہ واضح کرتا ہے کہ حکومتی منصوبوں میں عوامی رائے کا اثر بہت زیادہ ہے۔
