واشنگٹن / تہران: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری بڑے پیمانے پر احتجاجات کے تناظر میں اپنا مؤقف سخت کرتے ہوئے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں اور مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اداروں پر قبضہ کریں اور احتجاج جاری رکھیں۔ ان بیانات نے عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے، جس کا تعلق خطے کی سلامتی، سفارتکاری اور انسانی حقوق کے مسائل سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں مظاہرین سے مخاطب ہو کر لکھا:
“Iranian Patriots, KEEP PROTESTING — TAKE OVER YOUR INSTITUTIONS!!! HELP IS ON ITS WAY … Save the names of the killers and abusers. They will pay a big price.”ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب تک “مظاہرین کے بے معنی قتل” بند نہیں ہوتے، وہ ایرانی حکام کے ساتھ کسی بھی ملاقات میں نہیں بیٹھیں گے۔
اثرات اور سفارتی پس منظر
ٹرمپ کا یہ مؤقف ایک بڑے سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں امریکہ نے روایتی سفارتی گفتوشنید کو معطل کرتے ہوئے ایران کے اندرونی احتجاجات کی کھل کر حمایت کی ہے۔ اس بیان سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس میں براہِ راست ایرانی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کو تقویت دینے کی صریح آمادہ کی گئی ہے۔
یہ احتجاجات ایران میں بڑھتی ہوئی مایوسی، معاشی دباؤ اور سیاسی بے چینی کے خلاف شروع ہوئے تھے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد مظاہروں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت نے سکیورٹی سخت کی ہوئی ہے اور انٹرنیٹ پر پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں، جس سے معلومات کا بہاؤ محدود ہے۔
نئے سفارتی اور اقتصادی اقدامات
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ تعلقات پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اقتصادی دباؤ کو بڑھانے اور عالمی سطح پر ایران کے تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ردِعمل اور تنقید
عالمی رہنماؤں اور تنظیموں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی ممالک نے ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا ہے، جبکہ روس اور چین نے امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کی ہے۔ ایران نے بھی الزام لگایا ہے کہ بیرونی طاقتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
خطرات اور امکانات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے “مدد پہنچنے والی ہے” جیسے بیانات خطے کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں عملی اقدامات میں بدل دیا جائے، جیسے اقتصادی پابندیاں یا فوجی آپشنز۔ یہ صورتحال ایران کے اندرونی استحکام، خطے میں طاقت کے توازن اور عالمی سطح پر امن و سیکورٹی کے لیے نازک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
