Type Here to Get Search Results !

تازہ ترین

سابق آسٹریلوی وزیراعظم نے نیتن یاہو کو خبردار کیا:ہماری سیاست سے دور رہیں

آسٹریلیا کی سیاست میں اسرائیل کی مداخلت؟ سابق وزیرِاعظم نے نیتن یاہو کو خبردار کر دیا



آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرنبل نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ آسٹریلیا کی داخلی سیاست میں دخل اندازی نہ کریں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے آسٹریلوی فیصلے کو حالیہ بونڈائی بیچ میں ہونے والے فائرنگ حملے سے جوڑنے کی کوشش کی۔

بونڈائی بیچ کا سانحہ اور نیتن یاہو کے بیانات

اتوار کی شام، ایک یہودی تہوار کی تقریبات کے دوران، باپ اور بیٹے نے بونڈائی بیچ میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے آسٹریلیا میں بڑی تشویش پیدا کر دی۔

اس واقعے کے بعد نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کے اس سال کے آغاز میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ "یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے" کے مترادف ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اس پالیسی کے باعث کچھ حلقوں میں نفرت انگیزی اور تشدد کے حالات پیدا ہوئے، اور یہ اقدام حملے کی وجہ بن سکتا ہے۔

میلکم ٹرنبل کی جانب سے ردعمل

میلکم ٹرنبل نے برطانوی چینل 4 نیوز سے گفتگو میں نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کیا اور کہا:
"میں احترام کے ساتھ نیتن یاہو سے کہنا چاہوں گا کہ براہِ کرم ہماری سیاست سے دور رہیں۔ ایسے تبصرے کسی مددگار ثابت نہیں ہوں گے اور درست بھی نہیں ہیں۔"

ٹرنبل نے واضح کیا کہ آسٹریلیا ایک کثیرالثقافتی ملک ہے اور یہاں کے رہنما کسی بھی غیر ملکی تنازعے کو اپنے ملک میں لے کر آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مسائل اور عالمی تنازعات کو آسٹریلوی معاشرت میں جوڑنا نقصان دہ ہے اور ایسا کرنے سے ملک میں ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔

دو ریاستی حل اور بین الاقوامی پس منظر

میلکم ٹرنبل نے یاد دہانی کرائی کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور دو ریاستی حل کے حق میں ہیں۔ دو ریاستی حل کے مطابق، اسرائیل اور فلسطین کے عوام کو اپنے اپنے آزاد ملک قائم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس میں زمین، مذہب، سیاسی اقتدار اور انسانی حقوق کے مسائل شامل ہیں۔ عالمی برادری کئی بار امن مذاکرات کر چکی ہے، لیکن اکثر ناکام رہی۔ اس پس منظر میں، نیتن یاہو کی طرف سے آسٹریلیا کی پالیسی پر تنقید، ایک سیاسی اور سفارتی مداخلت کے طور پر دیکھی گئی۔

آسٹریلوی حکومت کی پالیسی اور نیتن یاہو کا ردعمل

موجودہ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اگست میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، اور یہ فیصلہ دیگر مغربی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی میں لیا گیا۔ یہ اقدام غزہ کی جنگ کے دوران بڑھتے بین الاقوامی دباؤ اور انسانی بحران کے پیشِ نظر کیا گیا۔

نیتن یاہو نے ایک خطاب میں کہا:
"چند ماہ قبل میں نے آسٹریلیا کے وزیرِاعظم کو خط لکھا تھا کہ آپ کی پالیسی یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہود دشمنی ایک بیماری کی طرح ہے جو اس وقت پھیلتی ہے جب رہنما خاموش رہتے ہیں۔"

یہ بیان دراصل نیتن یاہو کی طرف سے آسٹریلیا کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے مترادف تھا، لیکن اس میں ایک ضمنی پیغام بھی شامل تھا: کہ آسٹریلیا کی پالیسی نے مقامی سطح پر خطرہ پیدا کیا، جو نیتن یاہو کے خیال میں حالیہ فائرنگ حملے کے ساتھ منسلک ہے۔

میلکم ٹرنبل اور انتھونی البانیز کا موقف

میلکم ٹرنبل نے نیتن یاہو کے بیانات کو ناقابل قبول مداخلت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ایک کامیاب کثیرالثقافتی معاشرہ ہے، جہاں مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں کے افراد پرامن طریقے سے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، غیر ملکی تنازعات کو یہاں منتقل کرنا ملک میں تشدد کو فروغ دیتا ہے، جو کسی بھی قوم کے مفاد میں نہیں۔

وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے بھی نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کیا اور کہا:
"دنیا کی اکثریت مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو ہی واحد راستہ سمجھتی ہے۔ یہ قومی اتحاد کا لمحہ ہے، ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے اور یہودی برادری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔"

البانیز نے ہسپتال میں ان افراد کی عیادت بھی کی جو حملہ آوروں میں سے ایک کو قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوئے، جس میں احمد الاحمد بھی شامل تھے، جو 2007 میں شام سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے۔ وزیرِاعظم نے بتایا کہ حملہ آور، ساجد اکرم اور اس کے بیٹے نوید، داعش کے نظریات سے متاثر تھے۔

نیتن یاہو کی تنقید کے پیچھے سیاسی منطق

نیتن یاہو کی جانب سے آسٹریلوی پالیسی پر تنقید کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں:

  1. اسرائیل کی سفارتی پوزیشن: نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے تسلیم کو محدود کیا جائے، تاکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی پوزیشن مضبوط رہے۔

  2. یہود دشمنی کا تناظر: نیتن یاہو نے کہا کہ آسٹریلیا کی پالیسی نے "یہود دشمنی" کو فروغ دیا، لیکن اس بیان میں ایک سیاسی رنگ بھی شامل ہے، جو مقامی اور بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے اہم ہے۔

  3. فلسطین-اسرائیل تنازع کا عالمی اثر: نیتن یاہو ہر ملک کی خارجہ پالیسی پر نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے ممالک پر جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر اسرائیل کے اثرات متاثر ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا کی داخلی صورتحال اور کثیرالثقافتی معاشرہ

آسٹریلیا ایک کثیرالثقافتی اور مذہبی طور پر متنوع ملک ہے۔ یہاں مسلمان، یہودی، عیسائی اور دیگر مذہبی گروہ امن کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی غیر ملکی تنازعے کو مقامی سطح پر لانا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نسلی اور مذہبی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

میلکم ٹرنبل اور انتھونی البانیز دونوں نے زور دیا کہ آسٹریلیا میں کوئی بھی تنازعہ، چاہے وہ مشرق وسطیٰ ہو یا دنیا کے کسی اور حصے کا، یہاں منتقل نہ ہونے پائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں امن اور ہم آہنگی برقرار رہے۔

تجزیہ اور اثرات

  1. سیاسی اثرات: نیتن یاہو کے بیانات نے آسٹریلیا-اسرائیل تعلقات میں نرمی پیدا کی، لیکن آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر قائم ہے۔

  2. سماجی اثرات: بونڈائی حملے کے بعد یہودی اور غیر یہودی برادریوں میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نفرت اور انتہا پسندی کو روکا جا سکے۔

  3. بین الاقوامی اثرات: نیتن یاہو کی تنقید بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے موقف کو اجاگر کرتی ہے، لیکن یہ آسٹریلیا میں غیر ملکی مداخلت کے طور پر دیکھی گئی۔

نتیجہ

آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرنبل کی نیتن یاہو کو تنبیہ دراصل ایک سفارتی اور داخلی حفاظتی اقدام تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسٹریلیا میں غیر ملکی تنازعات کو لانے سے نہ صرف سیاسی نقصان ہوگا بلکہ معاشرتی ہم آہنگی بھی متاثر ہوگی۔

اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات مقامی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، اور ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی میں مکمل خودمختاری اور بین الاقوامی احترام کو برقرار رکھیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Top Post Ad

Below Post Ad

Hollywood Movies