اسلام آباد: حکومت کی جانب سے صحت سہولت ہیلتھ کارڈ پروگرام کو ایک بار پھر بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک کے مختلف اہم علاقوں میں لاکھوں شہریوں کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت دوبارہ میسر آ گئی ہے۔ اس فیصلے کو عوامی سطح پر ایک بڑی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے پروگرام کی معطلی کے باعث غریب اور متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار تھا۔
صحت سہولت پروگرام کا مقصد ملک بھر میں ایسے خاندانوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا ہے جو مہنگے نجی ہسپتالوں میں علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس کارڈ کے ذریعے مستحق افراد سرکاری اور پینل میں شامل نجی ہسپتالوں سے بغیر کسی ادائیگی کے علاج کروا سکتے ہیں۔
کن علاقوں میں صحت سہولت کارڈ بحال ہوا؟
ذرائع کے مطابق صحت سہولت ہیلتھ کارڈ کی بحالی کا فیصلہ مرحلہ وار کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں اور عوام کا انحصار زیادہ تر سرکاری پروگرامز پر ہے۔ بحالی کے بعد ان علاقوں میں لاکھوں خاندان ایک بار پھر علاج کی سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلوں میں دیگر اضلاع اور علاقوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
صحت سہولت کارڈ کے تحت کون سی سہولیات ملتی ہیں؟
صحت سہولت ہیلتھ کارڈ کے ذریعے درج ذیل طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں:
-
بڑے اور مہنگے آپریشنز
-
دل، گردوں اور جگر کے امراض کا علاج
-
زچگی اور بچوں کی پیدائش سے متعلق سہولیات
-
حادثات اور ایمرجنسی کیسز
-
کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں کا علاج
ہر مستحق خاندان کے لیے سالانہ مخصوص رقم مختص کی جاتی ہے، جس کے اندر رہتے ہوئے وہ مختلف بیماریوں کا علاج کروا سکتے ہیں۔
عوامی ردِعمل
صحت سہولت کارڈ کی بحالی پر عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام غریب عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا، کیونکہ علاج کے اخراجات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو اس کارڈ کے بغیر علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
سماجی حلقوں اور ماہرین صحت نے بھی اس فیصلے کو مثبت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پروگرام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے۔
حکومت کا مؤقف
حکومتی حکام کے مطابق صحت سہولت پروگرام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے باوجود صحت کے شعبے پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے پروگرام کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس میں شفافیت اور بہتری لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سہولت صرف مستحق افراد تک پہنچے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ دنوں میں صحت سہولت ہیلتھ کارڈ کے بجٹ میں اضافے اور مزید ہسپتالوں کو پینل میں شامل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے بدعنوانی روکنے کے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
صحت سہولت ہیلتھ کارڈ کی بحالی کو مجموعی طور پر ایک اہم عوامی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف صحت کے شعبے کو مضبوط بنائے گا بلکہ لاکھوں خاندانوں کو مالی اور ذہنی سکون بھی فراہم کرے گا۔
