200 یونٹس کا مطلب
روزانہ اور ماہانہ بجلی کی کھپت کے حساب سے 200 یونٹس ایک عام گھریلو صارف کے لیے درمیانی سطح کی استعمال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سطح پر صارفین کی بجلی کی قیمت عام طور پر سب سے زیادہ زیر غور رہتی ہے کیونکہ زیادہ تر گھریلو صارفین اسی رینج میں آتے ہیں۔
بجلی کے یونٹ ریٹس کی تفصیل 2026
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نرخنامے کے مطابق بجلی کے بل کے لیے درج ذیل ریٹس لاگو ہوں گے:
| یونٹس کا استعمال | فی یونٹ ریٹ (روپے) | کل بل (تقریباً) |
|---|
| 0–50 یونٹس | 9.35 | 467.5 |
| 51–100 یونٹس | 11.30 | 565 |
| 101–150 یونٹس | 14.60 | 730 |
| 151–200 یونٹس | 17.25 | 862.5 |
نوٹ: یہ ریٹس صرف گھریلو صارفین کے لیے ہیں اور میٹر کے حساب سے تھوڑی بہت تبدیلی ہو سکتی ہے۔
200 یونٹس کے لیے کل بل کا حساب
اگر کسی گھرانے نے ماہانہ 200 یونٹس بجلی استعمال کی، تو اوپر دی گئی سلیب کے حساب سے:
-
پہلے 50 یونٹس: 50 × 9.35 = 467.5 روپے
-
اگلے 50 یونٹس (51–100): 50 × 11.30 = 565 روپے
-
اگلے 50 یونٹس (101–150): 50 × 14.60 = 730 روپے
-
آخری 50 یونٹس (151–200): 50 × 17.25 = 862.5 روپے
کل بل: 467.5 + 565 + 730 + 862.5 ≈ 2,625 روپے
یہ حساب تقریباً ہے اور بل میں ممکنہ اضافی چارجز، ٹیکس اور دیگر فیس شامل نہیں ہیں۔
حکومت کی وضاحت
پاور ڈویژن کے حکام نے صارفین کو بتایا ہے کہ 2026 کے یونٹ ریٹس بجلی کی پیداوار، منتقل کرنے کے اخراجات اور بین الاقوامی ایندھن کی قیمت کے مطابق مقرر کیے گئے ہیں۔ اس سے بجلی کی فراہمی کے نظام کو مستحکم رکھنے اور بلوں میں اچانک اضافے سے بچنے میں مدد ملے گی۔
صارفین کے لیے تجاویز
ماہرین بجلی کی بچت کے لیے مشورہ دیتے ہیں کہ صارفین:
اس طرح 200 یونٹس یا اس سے زائد استعمال کے دوران بھی بل میں کمی کی جا سکتی ہے۔
2026 میں بجلی کے یونٹ ریٹس کی یہ تفصیل صارفین کے لیے اپنے ماہانہ بجلی کے اخراجات کا حساب لگانا اور بجٹ پلان کرنا آسان بنا دیتی ہے، اور غیر ضروری بل کے جھٹکوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔